*زیارت کے قدیم جونیپر جنگلات میں ہولناک آتشزدگی، نایاب ماحولیاتی ورثہ تباہی کے دہانے پر*


زیارت: بلوچستان کے ضلع زیارت میں ہزاروں سال قدیم جونیپر (صنوبر) کے جنگلات میں شدید آتشزدگی نے قیمتی قدرتی ورثے، جنگلی حیات اور قریبی آبادیوں کو سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہے


مقامی ذرائع کے مطابق پہاڑی علاقے میں بھڑکنے والی آگ تیز ہواؤں کے باعث مسلسل پھیل رہی ہے، جبکہ دشوار گزار جغرافیائی صورتحال اور محدود فائر فائٹنگ وسائل کے باعث آگ پر قابو پانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے


علاقہ مکینوں اور مقامی حلقوں نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیارت کے جونیپر جنگلات محض درختوں کا ایک جنگل نہیں بلکہ بلوچستان کا قیمتی ماحولیاتی اور قدرتی ورثہ ہیں


آگ کے باعث قدیم درختوں کے ساتھ جنگلی حیات کے مسکن بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ آگ کا دائرہ قریبی آبادیوں تک پہنچنے کی صورت میں انسانی جانوں اور املاک کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے


مقامی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، NDMA، PDMA، محکمہ جنگلات، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کو معمول کی کارروائی سمجھنے کے بجائے ہنگامی بنیادوں پر بڑے پیمانے کا ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن شروع کیا جائے


مطالبہ کیا گیا ہے کہ جدید فائر فائٹنگ آلات، واٹر باؤزرز، خصوصی تربیت یافتہ عملہ اور دیگر ضروری وسائل فوری طور پر متاثرہ علاقے میں پہنچائے جائیں۔ آگ کی شدت اور پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت پڑنے پر فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹرز بھی فوری طور پر استعمال کیے جائیں


مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول قائم کرکے آگ کی مکمل نگرانی، متاثرہ علاقوں کی نشاندہی اور قریبی آبادیوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی پلان نافذ کریں


قدیم جونیپر جنگلات کو معمولی آگ یا مقامی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کرنا مستقبل میں ایک بڑے ماحولیاتی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ اس واقعے کی وجوہات، نقصانات اور ممکنہ غفلت کا بھی جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مستقل اور مؤثر نظام وضع کیا جا سکے


زیارت کا جونیپر جنگل آنے والی نسلوں کی امانت ہے؛ اسے بچانے کے لیے فوری، مؤثر اور عملی اقدام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔